دیپک کمار کے مطابق کچھ وقت قبل تک ان کے جم میں روزانہ تقریباً 150 لوگ ورزش کرنے کے لیے پہنچتے تھے۔ اب پورے دن میں صرف 10 سے 12 لوگ ہی جم پہنچ رہے ہیں۔

اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں جم چلانے والے دیپک کمار کا جم ایک بار پھر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ حالیہ تنازعہ کے بعد جم میں آنے والے لوگوں کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے متعلق دیپک کمار نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حالات ان کے کاروبار کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔
دیپک کمار کے مطابق کچھ وقت قبل تک ان کے جم میں روزانہ تقریباً 150 لوگ ورزش کرنے کے لیے پہنچتے تھے۔ صبح اور شام کے وقت جم میں اچھی خاصی بھیڑ رہتی تھی اور نوجوانوں کی باقاعدہ آمد و رفت رہتی تھی۔ لیکن گزشتہ دنوں شروع ہوئے تنازعہ کے بعد جم میں آنے والے لوگوں کی تعداد تیزی سے کم ہو گئی ہے۔ اب پورے دن میں صرف 10 سے 12 لوگ ہی جم پہنچ رہے ہیں۔ کئی بار ایسا بھی ہو رہا ہے کہ جم پورے دن کھلا رہتا ہے، لیکن گنتی کے چند لوگ ہی نظر آتے ہیں۔
ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق دیپک کمار کا کہنا ہے کہ صارفین کی تعداد میں کمی وہ پریشان ہیں، کیونکہ جم ہی ان کی روزی روٹی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ باقاعدہ اخراجات، کرایہ اور ملازمین کی تنخواہوں کو پورا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہیں امید ہے کہ جلد حالات معمول پر آ جائیں گے اور لوگ پھر سے جم آنا شروع کر دیں گے۔
واضح رہے کہ یہ پورا معاملہ کچھ وقت قبل شروع ہوئے ایک مسلم بزرگ شخص کی دکان کا نام بدلنے سے متعلق بتایا جا رہا ہے، جس کے بعد سے دیپک کا جم مسلسل سرخیوں میں ہے۔ معاملے کے متعلق پولیس میں شکایت درج کرائی گئی تھی اور پولیس مختلف زاویے سے تحقیقات میں مصروف ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
